ابنا: تشدد اور آگ زنی کے واقعات کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور پورے شہر میں غیر معینہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔اترپردیش کے داخلہ سیکریٹری کمل سکسینا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اب تک کل 26 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک 30 سے بھی لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔اترپردیش میں حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی کو ان فسادات کو روکنے میں ناکامی کے لیے سخت تنقید کا سامنا ہے۔حزب اختلاف نے کہا ہے کہ حکومت فسادات روکنے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔ہندو مسلم جھڑپوں کے بعد کشیدگی کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات ضلع کی حفاظت کی ذمہ داری فوج نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔کمل سکسینا نے بتایا کہ فوج کو شاملی کے ساتھ مظفر نگر میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران مظفرنگر سے متصل ضلع میرٹھ میں بھی فوج نے فلیگ مارچ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فوج نے اتوار کی صبح شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا۔آئی جی وشوکرما کا کہنا تھا ’جلسہ عام میں رہنماؤں نے بے حد غیر ذمہ دارانہ بیان دیےجس کی وجہ سے لوگوں کے جذبات بھڑک گئے اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔‘حالات پر قابو پانے کے لیے 27 کمپنی اضافی پولیس فورس طلب کی گئي ہے۔ اس کے ساتھ ہی فساد کو روکنے کے لیے حکام کو ضرورت پڑنے پر گولی چلانے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔اے ڈی جی کے مطابق دیہی علاقوں میں بھی پولیس فورس بڑھا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد سے علاقے میں کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ادھر، ایک اور گاؤں منصورپور میں بھی دو فرقوں کے درمیان فائرنگ ہوئی ہے۔ اس میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن ایک خاتون زخمی ہوگئی ہیں۔اس سے قبل جانسٹھ قصبے کے قریب نگلا مدوڑ گاؤں کے انٹر کالج کے میدان میں ہفتہ کو وسیع مہا پنچايت ہوئی تھی، جس میں کثیر تعداد میں لوگ شامل ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق مہا پنچايت میں شرکت کے لیے آنے والے ہجوم نے راستے میں مبینہ طور پر اقلیتی برادری کے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد ضلع میں فسادات بھڑک اتھے۔......../169
8 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461142
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے مظفرنگر ضلعے میں حکام کے مطابق ہندو مسلم جھڑپوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔